بھارت میں نوجوانوں کا طوفان: ایک انوکھی مہم نے پورا سوشل میڈیا ہلا دیا



ڈیجیٹل وار

بھارتی سپریم کورٹ کے جج نے بے روزگار نوجوانوں کو طنزاً "کاکروچ"کہا تو نوجوانوں نے ۔'بی جے پی ' کے مقابلے میں سی جے پی "کاکروچ" جنتا پارٹی بنا کر ایسا ڈیجیٹل وار کیا جس نے حکمرا جماعت کی نیندیں اڑا دیں۔( بی جے پی) کو تکلیف اس بات کی ہے کہ اس تنزیہ مہم نے محض چند دنوں میں ان کے افیشل سوشل میڈیا ہینڈلز کو مقبولیت میں پچھاڑ کر رکھ دیا ـ

سی جے پی جنتا پارٹی

بھارت میں گزشتہ چند دنوں میں سے سوشل میڈیا پر "کاکروچ" جنتا پارٹی " (سی جے پی) نامی یہ تنزیہ سیاسی تحریک شدید مقبول ہو چکی ہے ـ اس انوکھی اور مزاحیہ مہم کا اغاز 16 مئی 2026 کو ہوا      جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں سوشل میڈیا صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا٫اس تحریک کی بنیاد 30 سالہ پبلک ریلیشنز اسٹریٹجسٹ 'ابھیجیت دیپکے" نے رکھی ،جو پوسٹن یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں ـ "ابھیجیت دیپکے" نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم "ایکس " ( سابقہ ٹویٹر) پر ایک تنزیہ پوسٹ لکھی کہ " کیا ہو  اگر ملک کے تمام کاکروچ ایک ساتھ ہو جائیں ؟

متنازعہ بیان

  اس مہم کا پس منظر بھارتی عدالت عظمی ( سپریم کورٹ ) کہ چیف جسٹس "سوریا کانت" کا ایک انتہائی متنازع بیان ہے ـ 15 مئی 2026 کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران" چیف جسٹس" نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹسں کو "کاکروچ" کہا تھا ـ کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں ـ جیہیں کہیں نوکری یا کام نہیں ملتا"انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ بعد میں میڈیا اور آر ٹی ائی ایکٹیوسٹ  بن کر پورے سسٹم پر حملے شروع کر دیتے ہیں" چیف جسٹس نے ان نوجوانوں کو معاشرے کے لیے تحفیلی یعنی دوسروں کے سہارے جینے والے بھی قرار دیا تھا،

توہین امیز بیان

  اس توہین امیز بیان کے بعد بھارتی نوجوان بالخصوص جنریشن زی  فارم میں شدید غصہ اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ـ شدید عوامی رد عمل اور تنقید کے بعد چیف جسٹس نے اگلے ہی دن وضاحت جاری کی کہ ان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا ـ انہوں نے موقف اپنایا کہ ان کا اشارہ جالی ڈگریاں رکھنے والوں کی طرف تھا اور "ابھیجیت دیپکے نے   اس توہین امیز لفظ "کاکروچ" کو ہی احتجاج کا ایک تنزیہ ہتھیار بنا لیا ـ انہوں نے باقاعدہ "ایک ویب سائٹ بنائی اور اس کا نعرہ" سست اور بے روزگار کی اواز رکھا "

(Voice of the lazy and unemployed) 

  اس تنزیہ پارٹی کا منشور سیکولر سوشلزم اور ڈیموکریٹک اقدام کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف بیانیے پر مبنی ہے ـ پارٹی کی رکنیت کے لیے تنزیہ شرائط رکھی گئی جیسے کہ بندہ بے روزگار ہو سست ہو اور روزانہ 11 گھنٹے ان لائن رہتا ہو ـ حیران کن طور پر محض چار سے پانچ دنوں میں اس پارٹی کے "انسٹاگرام' اکاؤنٹ پر فالورز کی تعداد 15 ملین "ڈیڑھ کروڑ" سے تجاوز کر گئی ـ اس تنزیہ مہم نے مقبولیت میں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور "کانگریس" کے افیشل سوشل میڈیا ہینڈلز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ـ بھارت کی مشہور اپوزیشن لیڈر محوا موئترا سمیت کئی بڑی سیاسی شخصیات نے بھی اس تنزیہ فارم کو پُر کر کے اس کی حمایت کی ہے ـ تنزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف نوجوانوں کا ایک منفرد ڈیجیٹل احتجاج ہے 

 تاریخ 15 مئی 2026

چیف جسٹس سوریا کانت

"بانی تاریخ " ابھیجیت دیپکے

پارٹی کا نام سی جے پی 

بین الاقوامی میڈیا ذرائع 

الجزیرہ۔   دی گارڈین     ٹریبیون انڈیا ـ

خصوصی رپورٹ

 دی پاکستان ٹائم

Comments

Popular posts from this blog

US Sea Drones Used Against Iran: How They Work and Why It Matters

World's Poorest Countries 2026: The Bottom Five by GDP Per Capita

How Volker Türk Won a Second Term as UN Human Rights Chief