مری روڈ پر المناک حادثہ: ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، ہماری رائے میں یہ حادثہ نہیں، نظراندازی کا نتیجہ ہے
دی پاکستان ٹائمز لائیو
اسلام آباد ٹائمز
11 جون 2026
10 جون 2026ء کو مری ایکسپریس وے پر کھجٹ کے قریب ایک ٹویوٹا ہائیس وین (رجسٹریشن نمبر نامعلوم) بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے حفاظتی دیوار سے جا ٹکرائی۔ یہ وین ملتان کے علاقے سوتری واڑ سے 23 افراد کو لے کر مری جا رہی تھی، جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔
حادثے کی شدت اتنی تھی کہ گاڑی کا فیول ٹینک پھٹ گیا اور پٹرول لیک ہونے سے فوری طور پر آگ بھڑک اٹھی۔ خوفناک بات یہ تھی کہ گاڑی کا سلائیڈنگ دروازہ تصادم کے بعد لاک ہو گیا اور گاڑی اس جانب الٹ گئی جہاں سے دروازہ کھلنا ممکن نہ تھا۔ نتیجتاً مسافر باہر نہ نکل سکے۔
اس ہولناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد (جن میں 8 بچے اور 2 خواتین شامل تھیں) جھلس کر جاں بحق ہو گئے جبکہ 13 افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اسلام آباد اور فاروق ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں سے ان میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں چھوٹے بچوں کا ہونا اس سانحے کو مزید دردناک بناتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ تیز رفتاری تھی، جس کے بعد انجن میں آگ لگنے سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ہماری رائے (ادارتی تجزیہ):
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پہاڑی راستوں پر وینز کے حادثات میں درجنوں جانیں ضائع ہوئی ہوں۔ ماضی میں ناران، کاغان، موری اور سوات کے راستوں پر ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، لیکن کوئی پائیدار حل نہیں نکالا گیا۔
اس مخصوص حادثے میں دو بنیادی نکات ہیں:
پہلا: تیز رفتاری۔ پہاڑی سڑکوں پر رفتار کی حد مقرر ہے لیکن اس پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ ٹریول کمپنیاں اور پرائیویٹ ڈرائیور مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر وقت بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسرا: گاڑی کے دروازے کا لاک ہو جانا۔ جدید وینز میں سلائیڈنگ دروازے حادثے کے وقت اکثر جام ہو جاتے ہیں، اور کوئی ایمرجنسی اوور رائیڈ سسٹم موجود نہیں ہوتا۔ یہ ایک ڈیزائن اور سیفٹی ریگولیشن کا مسئلہ ہے جسے ابھی تک کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ہماری تجویز ہے کہ حکومت فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرے:
1. تمام پبلک ٹرانسپورٹ وینز اور کوچز کا سالانہ حفاظتی معائنہ لازمی قرار دیا جائے، خاص طور پر ان کے دروازوں کے ایمرجنسی میکانزم کا۔
2. پہاڑی علاقوں میں تیز رفتاری پر بھاری جرمانے اور ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کرنے کا نظام نافذ کیا جائے۔
3. ہر وین میں دو ایمرجنسی ایگزٹ (پچھلا دروازہ یا کھڑکی توڑنے کا ہتھوڑا) لازمی کیا جائے۔
4. متاثرہ خاندان کو شفاف اور فوری معاوضہ دیا جائے، اور زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت اٹھائے۔
یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے نظام کی اس بڑی کمزوری کی علامت ہے کہ ہم حادثات کے بعد تو رویا کرتے ہیں، لیکن مستقبل میں بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے۔ دی پاکستان ٹائمز لائیو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قانون ساز اور انتظامیہ اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ جب تک حفاظتی معیارات کو لاگو نہیں کیا جائے گا، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
دعا ہے کہ اللہ پاک تمام جاں بحق افراد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو صحت یابی کی توفیق دے۔

Comments
Post a Comment
We welcome your thoughts and feedback. Please keep your comments respectful, relevant, and constructive. Spam, abusive, or promotional comments will not be approved.