پاکستان کا بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بڑی ریلیف – کیا یہ معاشی بحالی کی ضمانت دے گا؟
پاکستان ٹائمز لائیو کا خصوصی تجزیاتی مضمون
اسلام آباد: 12 جون، 2026
آج وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں 2026-27 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں، اور ذرائع کے مطابق اس بجٹ کا حجم 17.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اس بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے بالآخر اپنی اصولی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت فعال ٹیکس فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودیہولڈنگ ٹیکس سیکشن 236K کے تحت 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے اور جائیداد کی فروخت پر سیکشن 236C کے تحت ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس ریلیف کو اس شرط پر منظوری دی ہے کہ ٹیکس میں کمی کے باوجود ٹرانزیکشنز کی دستاویزات اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم 0.5 سے 1 فیصد ٹیکس برقرار رکھا جائے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس وقت مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ہے جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو 3.7 فیصد رہی ہے، جو حکومت کے 4.2 فیصد کے ہدف سے کم ہے۔
رئیل اسٹیٹ کا بحران: گزشتہ دو سالوں کی کہانی
پاکستان کی رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت پچھلے کئی سالوں سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ 2025 میں تعمیراتی صنعت میں 2.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں اس کی قدر میں سال بہ سال 9.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجوہات میں شرح سود میں اضافہ، تعمیراتی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور توانائی کے بحران شامل ہیں۔ 2025 میں متعارف کرائے گئے ٹیکسز کے باعث غیر فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر ودیہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھ کر 10.5 فیصد تک جا پہنچی تھی، جس نے سرمایہ کاری کو بری طرح متاثر کیا۔ اس کے علاوہ، ایف بی آر نے اپریل 2026 میں اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان، بہاولپور اور گوجرانوالہ میں جائیدادوں کی قیمتوں میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کر دی تھی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید نقصان پہنچا۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں رہائش کی قلت 14 ملین یونٹس تک پہنچ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف رئیل اسٹیٹ صنعت جمود کا شکار تھی، وہیں دوسری طرف دیگر شعبوں میں بھی کسادبازی کے آثار نمایاں تھے۔
خریداری کی طاقت میں کمی کی ایک حقیقی مثال: قربانی کے جانور
گزشتہ دو سالوں میں پاکستانیوں کی خریداری کی طاقت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کی ایک واضح مثال قربانی کے جانوروں کی فروخت کے اعداد و شمار ہیں۔ 2026 میں ایڈنالعدحٰی پر ملک بھر میں کل 74.7 لاکھ جانور قربان کیے گئے، جو 2025 کے 69.77 لاکھ کے مقابلے میں 7.06 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، یہ اضافہ جانوروں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے باعث ہوا، نہ کہ خریداروں کی تعداد یا ان کی قوت خرید میں اضافے کی وجہ سے۔ ایک میڈیم سائز کے کوہستانی بکرے کی قیمت 2025 میں 50,000 سے 60,000 روپے تھی جو 2026 میں بڑھ کر 70,000 سے 80,000 روپے ہو گئی۔ اسی طرح چھوٹے بکروں کی قیمتیں 40,000 سے 55,000 روپے سے بڑھ کر 60,000 سے 100,000 روپے تک جا پہنچیں۔ ان مہنگی قیمتوں کے باعث زیادہ تر خریدار خالی ہاتھ بازاروں سے لوٹنے پر مجبور ہوئے۔ اگر عوام کی قوت خرید مضبوط ہوتی تو قربانی کے جانوروں کی تعداد 2025 کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس ریلیف کے باوجود عوام کی جیبیں خالی ہیں اور وہ بڑی سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
حکومت کو جن خطرات کا سامنا ہے
اگرچہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں لین دین بڑھانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے کئی ممکنہ نقصانات بھی ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ محصولات میں قلیل مدتی کمی کا ہے۔ ایف بی آر نے اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس محصولات کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے، جبکہ موجودہ مالی سال میں ٹیکس وصولیاں 13 ٹریلین روپے کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایف بی آر کو اگلے سال مزید 2.264 ٹریلین روپے جمع کرنے ہوں گے۔ اگر ٹیکس ریلیف کے بعد پراپرٹی ٹرانزیکشنز میں مطلوبہ اضافہ نہ ہوا تو محصولات کا ہدف پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ دوسرا بڑا خطرہ غیر فائلرز کو نظرانداز کرنے کا ہے۔ غیر فائلرز کے لیے ٹیکس کی موجودہ شرحیں بہت زیادہ ہیں، اور اگر انہیں اس ریلیف کا حصہ نہ بنایا گیا تو وہ غیر قانونی طریقوں سے لین دین کرتے رہیں گے، جس سے معیشت کی دستاویزات اور شفافیت متاثر ہوگی۔ تیسرا بڑا خطرہ یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے حکومت دوسرے شعبوں میں ٹیکس بڑھا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے پہلے ہی سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور دو درجن دیگر اشیاء پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد کرنے کی تجویز دے رکھی ہے، جس سے عام آدمی مزید مہنگائی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
پاکستان ٹائمز لائیو کا تجزیہ
رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسوں میں کمی ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اسے معاشی بحالی کی ضمانت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ ماضی میں بھی اس طرح کی ٹیکس ریلیف دی جا چکی ہے، لیکن جب تک ملکی معیشت مستحکم نہیں ہوتی اور شرح سود میں کمی نہیں آتی، اس شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کرنا مشکل ہے۔ عوام کی قوت خرید میں کمی کے پیش نظر، محض ٹیکس ریلیف سے رئیل اسٹیٹ میں لین دین میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا، اس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔
موجودہ معاشی صورتحال میں، حکومت کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ ٹیکس ریلیف دے کر معیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو دوسری طرف آئی ایم ایف کے سخت اہداف پورے کرنے کے لیے محصولات میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وفاقی وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر میں ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبہ پیش کرتے ہیں۔
آخر میں، اس تجزیے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ٹیکس ریلیف اگرچہ ایک اچھا اقدام ہے، لیکن یہ واحد راستہ نہیں ہے۔ جب تک ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط نہیں کیا جاتا، محض ٹیکسوں میں کمی سے معاشی بحالی ممکن نہیں۔
پاکستان ٹائمز لائیو اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور بجٹ سے متعلق تمام اپڈیٹس فوری فراہم کرتا رہے گا۔

Comments
Post a Comment
We welcome your thoughts and feedback. Please keep your comments respectful, relevant, and constructive. Spam, abusive, or promotional comments will not be approved.