عالمی تیل بحران 2026 اور پاکستان میں تاریخی ریلیف: ایک جامع تجزیہ

 


پاکستان ٹائمز لائیو کی خصوصی رپورٹ

اسلام آباد: 19 جون، 2026


28 فروری 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی حملے شروع کیے تو اس کے ساتھ ہی عالمی معیشت کی ایک اہم شریان — آبنائے ہرمز — عملی طور پر بند ہو گئی۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ دنیا کے خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت، جو جنگ سے پہلے 72 ڈالر فی بیرل تھی، عروج پر 120 ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے دنیا بھر میں پٹرول مہنگا کیا — یہ کسی ایک حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کا بحران تھا۔


جنگ کے پہلے تین ہفتوں (23 مارچ تک) میں دنیا کے 106 ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے زیادہ اضافہ فلپائن میں ہوا (54.20 فیصد)، اس کے بعد کمبوڈیا (68 فیصد)، ویتنام (50 فیصد)، نائجیریا (35 فیصد)، لاؤس (33 فیصد) اور کینیڈا (28 فیصد)۔ صرف 56 ممالک ایسے تھے جہاں قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی (جیسے وینزویلا، سعودی عرب، لیبیا، کویت، عراق اور ایران خود)، اور محض 8 ممالک میں قیمت کم ہوئی۔


مئی تک آتے آتے ملائیشیا اور پاکستان دونوں میں پٹرول کی قیمت 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی تھی، جبکہ ڈیزل ملائیشیا میں 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد سے زیادہ مہنگا ہوا۔


پاکستان میں 6 مارچ 2026 کو حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا — جو ایک ہی وقت میں کیا جانے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔ پٹرول 266.17 سے 321.17 روپے (تقریباً 21 فیصد) اور ڈیزل 280.86 سے 335.86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔


3 اپریل 2026 کو پٹرول 458.41 روپے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا — جو 2006 کے 55 روپے فی لیٹر کے مقابلے میں 720 فیصد سے زیادہ کا اضافہ تھا۔


پاکستان میں اضافے کی بڑی وجوہات میں پاکستان کی 85 فیصد پٹرولیم ضروریات کی درآمد، روپے کی قدر میں مسلسل کمی جس نے درآمدی لاگت کو مزید بڑھایا، اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیٹرولیم لیوی میں اضافہ (مئی 2026 میں 117.4 روپے فی لیٹر تک) شامل ہیں۔


بھارت نے حکمت عملی اختیار کی اور سرکاری آئل کمپنیوں نے 76 دن تک قیمتیں منجمد رکھیں اور روزانہ تقریباً 1600-1700 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کیا۔


15 مئی 2026 کو — جنگ شروع ہونے کے 76 دن بعد — بھارت نے پہلی بار قیمتوں میں ₹3 فی لیٹر اضافہ کیا۔ مجموعی طور پر پٹرول میں ₹7.38 اور ڈیزل میں ₹7.52 فی لیٹر کا اضافہ ہوا۔ دہلی میں پٹرول 99.51 سے بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر ہو گیا — یعنی تقریباً 7.5 فیصد اضافہ۔


بنگلہ دیش نے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا، لیکن پاکستان کی طرح یکمشت نہیں۔ یکم جون 2026 کو پٹرول اور آکٹین کی قیمت میں 5 ٹکا فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ پٹرول 135 سے بڑھ کر 140 ٹکا (تقریباً 1.15 ڈالر) ہو گیا — یعنی تقریباً 3.7 فیصد اضافہ۔


تقابلی جائزہ میں پاکستان میں 55 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بھارت میں صرف 7.5 فیصد اور بنگلہ دیش میں 3.7 فیصد۔ پاکستان نے مارکیٹ سے براہِ راست منسلک فوری منتقلی کا طریقہ اختیار کیا، بھارت نے سرکاری نقصان جذب کر کے اضافہ ٹالا، اور بنگلہ دیش نے سبسڈی برقرار رکھ کر کچھ تاخیر کی۔


**عوام کو بڑی ریلیف: پٹرول 373 سے 299 روپے**


19 جون 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کر دی۔ اس کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 299 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 311 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔


وزیراعظم نے اس کمی کو پاکستان کی سفارتی کامیابیوں سے منسلک کیا — امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت نامے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھل گئی، عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، اور پاکستان نے اس معاہدے میں بطور ثالث کلیدی کردار ادا کیا۔


وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ترقیاتی بجٹ اور اخراجات میں کمی سے 129 ارب روپے مختص کیے۔


انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہوئی اور نہ ہی پمپوں پر لمبی قطاریں لگیں۔


**پاکستان ٹائمز لائیو کا تجزیہ**


اعداد و شمار واضح ہیں: پاکستان میں اضافہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔ یہ فرق پالیسی کے فرق کی وجہ سے ہے — بھارت نے اپنے بڑے مالیاتی ذخائر اور سرکاری سبسڈی کے ذریعے دباؤ کو طویل عرصے تک جذب کیا، جبکہ پاکستان، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت، اس بوجھ کو فوری اور براہِ راست عوام پر منتقل کرنے پر مجبور تھا۔


بھارت کی معیشت پاکستان سے 10 گنا بڑی ہے، اس لیے وہ زیادہ نقصان برداشت کر سکتا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے درآمدی لاگت کو مزید بڑھا دیا، اور وہی فیصد اضافہ ایک کم آمدنی والے گھرانے پر بھارت کے متوسط طبقے کی نسبت زیادہ بھاری پڑتا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا، لیکن اس کا سب سے بڑا زخم پاکستانی عوام کو لگا — جہاں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت آمدنی کے تناسب سے سب سے زیادہ ہے۔ اب جبکہ امریکہ-ایران امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھل چکی ہے، پاکستان میں پٹرول کی قیمت 299 روپے فی لیٹر آ گئی ہے — جو عوام، خاص طور پر درمیانے اور نچلے طبقے کے لیے بڑی ریلیف ہے، کیونکہ مہنگی توانائی نے گھریلو اخراجات کو شدید متاثر کیا تھا۔


پاکستان ٹائمز لائیو اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

US Sea Drones Used Against Iran: How They Work and Why It Matters

World's Poorest Countries 2026: The Bottom Five by GDP Per Capita

How Volker Türk Won a Second Term as UN Human Rights Chief