راولاکوٹ میں کشیدہ صورتحال: سی ایم ایچ کا کنٹرول رینجرز کے سپرد، مکمل شٹر ڈاؤن

 


پاکستان ٹائمز لائیو کی خصوصی رپورٹ

اسلام آباد: 08 جون، 2026


آزادکشمیر کے شہر راولاکوٹ میں گزشتہ روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ رینجرز نے سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ ہسپتال کے مرکزی گیٹ پر فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے اور تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔


🔹 واقعے کا آغاز


ذرائع کے مطابق، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح ہجوم نے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کر دیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کو عمل میں آنا پڑا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں پاکستان رینجرز کا ایک جوان شہید اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وفاقی حکومت نے 5 جون سے 25 جون تک آزادکشمیر میں رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری دے رکھی تھی۔


مقامی ذرائع کے مطابق، راولاکوٹ میں مقامی پولیس اور ایف سی کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی پولیس نے عوام پر گولیاں چلانے سے انکار کر دیا جس کے بعد دونوں فورسز آپس میں الجھ گئیں۔


🔹 لاشوں کی منتقلی اور پوسٹ مارٹم کا تنازع


فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی لاشیں رینجرز کی گاڑیوں کے ذریعے پانیولہ بی ایچ یو (BHU) منتقل کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔ تاہم ہسپتال ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پانیولہ بی ایچ یو میں پوسٹ مارٹم کی سہولت موجود نہیں ہے، جس پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔


🔹 شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن


راولاکوٹ شہر اور گرد و نواح میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ تمام کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معطل ہے۔ شہر میں دکانیں بند اور گاڑیوں کی آمدورفت نہ ہونے کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صورتحال کشیدہ ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں۔


🔹 فوج اور انتظامیہ کا موقف


وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 5 جون سے 25 جون تک آزادکشمیر میں رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو تعینات کرنے کی منظوری دے رکھی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات کا مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔


ادھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 سیٹوں کو ختم کرنے کے حوالے سے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ہنگامہ آرائی یا احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رہیں۔


🔹 رپورٹر کا تجزیہ


راولاکوٹ کے اس واقعے نے ایک بار پھر آزادکشمیر میں سیکیورٹی کے انتظامات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف مسلح ہجوم کا سی ایم ایچ جیسے حساس ادارے پر حملہ، دوسری طرف پوسٹ مارٹم کی سہولت نہ ہونے کے باوجود لاشوں کو پانیولہ بی ایچ یو منتقل کرنے کا فیصلہ۔ یہ معاملہ شفافیت کا متقاضی ہے۔


تاہم اتنا طے ہے کہ کسی بھی قیمت پر امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔ فوج اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔


پاکستان ٹائمز لائیو اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید تفصیلات اور تجزیوں کے لیے جڑے رہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

US Sea Drones Used Against Iran: How They Work and Why It Matters

World's Poorest Countries 2026: The Bottom Five by GDP Per Capita

How Volker Türk Won a Second Term as UN Human Rights Chief