عوامی ایکشن کمیٹی – جب عوام خود بولتی ہے (شوکت میر کا انٹرویو)

 


پاکستان ٹائمز


10 جون 2026

آزاد کشمیر میں ایک آواز اٹھی ہے۔ یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں، کوئی الیکشن مہم نہیں، بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے وہ آواز ہے جو برسوں سے دب کر رہ گئی تھی۔ شوکت میر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو ہر کشمیری سوچتا ہے مگر کہنے سے ڈرتا ہے۔


پہلا معاملہ: ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور عدالتی فیصلہ


کشمیر کے پہاڑوں سے نکلنے والا پانی پاکستان کے بڑے حصے کو روشنی دیتا ہے۔ لیکن اس روشنی کے بدلے کشمیر کو کیا ملتا ہے؟ شوکت میر کے مطابق، عدالتِ عالیہ نے واضح فیصلہ دیا ہے کہ ریاست کے اندر جتنے بھی ہائیڈرو پاور پراجیکٹس ہیں، ان کے معاہدے موجودہ مقامی حکومت کے ساتھ کیے جائیں۔ یہ فیصلہ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ مقامی حکومت کو وسائل پر اختیار نہیں، اور معاہدے ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے وفاق چاہتا ہے۔


دوسرا معاملہ: موبائل اور انٹرنیٹ سروسز – پیسے لیے جائیں، سروس نہ دی جائے


شوکت میر کہتے ہیں کہ کشمیر کے عوام سے کروڑوں روپے ماہانہ نیٹ اور موبائل سروسز کے نام پر وصول کیے جا رہے ہیں۔ کمپنیاں خوشی سے بل بھیجتی ہیں، لیکن سروس کہاں ہے؟ نیٹ گرتا ہے، کال نہیں ہوتی۔ عوام ریفنڈ نہیں مانگ رہی، وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ پیسے لے رہے ہو تو سروس دو۔


تیسرا معاملہ: وفاق اور مقامی حکومت کے درمیان ذمہ داریوں کی جنگ


شوکت میر کے مطابق، کچھ معاملات وفاق کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور کچھ مقامی حکومت کے۔ لیکن فی الوقت نہ وفاق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور نہ مقامی حکومت۔ کوئی مسئلہ ہو تو وفاق کہتا ہے "یہ مقامی معاملہ ہے"، مقامی حکومت کہتی ہے "ہمارے پاس وسائل نہیں"۔ عوام بیچ میں پھنسی ہے۔


چوتھا معاملہ: عوام کیا چاہتی ہے؟


شوکت میر نے واضح کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی صرف چار چیزیں چاہتی ہے:

1. عدالتی فیصلے پر عمل ہو، معاہدے مقامی حکومت کو دیے جائیں۔

2. موبائل نیٹ کمپنیاں سروس دیں، پیسے لے رہی ہیں تو۔

3. یہ واضح ہو کہ کون سا مسئلہ کس کے پاس جائے۔

4. کشمیر کی قربانیوں کے بدلے بنیادی سہولتیں دی جائیں۔


آخری بات


یہ سارا کچھ شوکت میر نے عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی میں کہا ہے۔ یہ کوئی سیاسی پروپیگنڈا نہیں، یہ ایک دستاویز ہے۔ اب فیصلہ وفاق اور مقامی حکومت کو کرنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

US Sea Drones Used Against Iran: How They Work and Why It Matters

World's Poorest Countries 2026: The Bottom Five by GDP Per Capita

How Volker Türk Won a Second Term as UN Human Rights Chief