پاک بھارت تنازعہ: ایک بار پھر آمنا سامنا

پاکستان ٹائمز لائیو کا خصوصی تجزیاتی مضمون

اسلام آباد: 19 جون، 2026



برصغیر کی تقسیم کو 79 برس بیت چکے ہیں، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی آگ آج بھی اسی شدت کے ساتھ بھڑک رہی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو ایک دوسرے کے لیے زہر بنا، جس کا کوئی دوا نہیں۔ یہ وہ کہانی ہے جو آج بھی اسی پہلی جنگ، پہلی بے اعتمادی اور پہلی ناانصافی سے شروع ہوتی ہے۔ جب دو قومیں ایک ہی ماں کی کُکھ سے جنم لیتی ہیں، تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے تیار رہیں؟ کیا یہ صرف سرزمین کا تنازع ہے، یا کچھ گہرا اور پرانا زخم ہے جو آج تک بھرا نہیں؟ یہ مضمون اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش ہے۔


تقسیم کا خونریز زخم (1947)


14 اگست 1947 کو برطانوی ہند کی تقسیم کے ساتھ پاکستان اور بھارت وجود میں آئے۔ لیکن یہ تقسیم خوشیوں کی نہیں، بلکہ خونریزی اور لاتعداد مہاجرین کی کہانی تھی۔ لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر دو طرفہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اس تباہی کے دوران ہی کشمیر کا مسئلہ جنم لیا، جو آج تک اس خطے کی تقدیر کا فیصلہ کر رہا ہے۔


چار جنگیں، ایک ہی محاذ (1948-1999)


آزادی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان چار بڑی جنگیں ہوئیں۔ 1948 کی پہلی جنگ میں کشمیر کا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں نے پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) الگ ہو گیا۔ 1999 کی کارگل جنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ کشمیر کے بغیر کوئی امن ممکن نہیں۔ 1998 میں دونوں ممالک کے ایٹمی تجربات نے اس تنازع کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک جہت دے دی۔


پانی کی سیاست: دریائے سندھ کا بحران


1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کے تحت مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو اور مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو ملے۔ لیکن 2025 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے اس معاہدے کو معطل کر دیا۔ اس کے بعد بھارت نے دریائے چناب پر 17 منصوبے شروع کیے، جسے پاکستان ہائیڈرو ہیجمنی قرار دیتا ہے۔ پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ پانی کا بہاؤ تبدیل کرنا جنگ کا اعلان ہوگا، اور اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا۔


بھارت کا بلوچستان میں کردار


جہاں پاکستان پر الزامات لگائے جاتے ہیں، وہیں بھارت کی طرف سے بلوچستان میں غیر مستحکم کرنے کی کارروائیاں بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ پاکستان نے طویل عرصے سے یہ الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را (RAW) بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ حکومت پاکستان نے بلوچستان میں سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کو باضابطہ طور پر ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیا ہے، اور ان پر بھارت کی طرف سے پراکسی جنگ کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے۔


اس سلسلے میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے مسلسل کارروائیاں کی ہیں۔ صرف 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران، سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مختلف آپریشنز کے دوران 178 سے زائد مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ 2016 میں بھارتی نیوی کے افسر کل بھوشن جادھو کی گرفتاری ایک اہم واقعہ ہے، جس نے بھارت کی جانب سے بلوچستان میں تخریب کاری کی سرگرمیوں کے بارے میں اہم انکشافات کیے تھے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔


اقوام متحدہ میں سفارتی محاذ


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1948 میں قرارداد 47 پاس کی، لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی جنگ عروج پر ہے۔ بھارت نے پاکستان کو "فرینکنسٹین اسٹیٹ" قرار دیا اور سندھ طاس معاہدے کو "فرسودہ" کہا۔ پاکستان نے انسانی حقوق کونسل میں کشمیر کا مسئلہ اور بلوچستان میں بھارت کی دہشت گردی کی سرپرستی کا معاملہ اٹھایا۔


مستقبل: ایک ٹک ٹک کرتا بم


مئی 2025 کی مختصر جنگ، 2026 میں سرحد پر جاری کشیدگی، اور پانی کا بحران اس خطے کو ایک ٹائم بم بنا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان بھارت کو 38 ارب ڈالر برآمد کر سکتا ہے، لیکن سیاست اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں ایران اور امریکہ امن کی راہ پر گامزن ہیں، وہیں پاکستان اور بھارت اب بھی اسی پرانی دشمنی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ، پانی کا بحران، اور دہشت گردی کے الزامات — یہ وہ دیواریں ہیں جو دونوں ممالک کو الگ رکھتی ہیں۔


پاکستان ٹائمز لائیو اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

US Sea Drones Used Against Iran: How They Work and Why It Matters

World's Poorest Countries 2026: The Bottom Five by GDP Per Capita

How Volker Türk Won a Second Term as UN Human Rights Chief