پاکستان افغانستان بڑھتی کشیدگی: ذمہ دار کون؟

 پاکستان ٹائمز | دی پاکستان ٹائمز | اسلام آباد ٹائمز


پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کو دشمنی نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران کہا جا سکتا ہے جو حالات کی تبدیلی اور باہمی عدم اعتماد کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ جنگ یا دشمنی نہیں، بلکہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں دونوں ممالک کی پالیسیاں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔


تو پھر یہ دشمنی کیا ہے؟


یہ کوئی روایتی دشمنی نہیں جس میں کوئی دوسرے کا ملک لینا چاہتا ہو۔ نہ پاکستان کو افغانستان پر قبضہ کرنا ہے اور نہ افغانستان کو پاکستان کی سرزمین چاہیے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) افغانستان سے کام کر رہی ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔


پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا تاریخی پس منظر


پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا سلسلہ 1947 سے جاری ہے، لیکن موجودہ کشیدگی کی جڑیں 2021 میں طالبان کی واپسی اور 2022 میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی سرگرمیوں میں اضافے تک جاتی ہیں۔


2001 سے 2021: امریکی مداخلت کا دور


امریکہ کے افغانستان میں داخلے کے بعد پاکستان کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا تھا۔ ایک طرف وہ امریکہ کا اتحادی تھا، تو دوسری طرف اسے افغان طالبان سے بھی تعلقات برقرار رکھنے تھے۔ اس دور میں پاکستان نے بارہا افغانستان میں امن کے لیے کوششیں کیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی ہمیشہ رہی۔


2021 کے بعد: طالبان کی واپسی اور نیا چیلنج


اگست 2021 میں طالبان کی واپسی نے پاکستان کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے۔ پاکستان کو امید تھی کہ طالبان کی حکومت دوستانہ ہوگی، لیکن افغان طالبان نے پاکستان کے دشمن گروہوں، خاص طور پر TTP، کو پناہ دینا شروع کر دی۔


ٹی ٹی پی کا عروج اور پاکستان کے لیے خطرہ


تحریک طالبان پاکستان نے 2022 کے بعد سے پاکستان میں حملے تیز کر دیے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مزدوروں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔


پاکستان کا ردعمل اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی


پاکستان نے TTP کے خلاف کارروائیاں شروع کیں، جس کے جواب میں TTP نے حملے بڑھا دیے۔ دسمبر 2024 میں پاکستان نے افغانستان کے صوبے پکتیکا میں فضائی حملے کیے، جس کے بعد افغان طالبان نے سرحد پر جوابی کارروائی کی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔


موجودہ صورتحال (2026):


حالیہ دنوں میں صورتحال بہت زیادہ بگڑ گئی ہے۔ فضائی حملے، جوابی کارروائیاں اور اندرونِ پاکستان حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ تعلقات بہتر ہوں گے، لیکن عملی طور پر صورتحال اس کے برعکس ہے۔


یہ دشمنی کیوں نہیں ہے؟


1. مشترکہ مفادات: دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ تجارت، توانائی کے منصوبے، اور پناہ گزینوں کا مسئلہ دونوں کے لیے اہم ہے۔

2. تاریخی وابستگی: دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی، مذہبی اور قبائلی تعلقات ہیں۔

3. عملی مسائل: یہ جنگ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا بحران ہے جس کا حل بات چیت اور عملی اقدامات سے ممکن ہے۔


ماہرین کا تجزیہ اور مستقبل کی راہ


ماہرین کے مطابق، اس بحران کا حل طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ TTP کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔


مستقبل کے ممکنہ منظرنامے:


1. امن کی راہ: اگر افغانستان TTP کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

2. کشیدگی کا برقرار رہنا: اگر طالبان نے اپنی پالیسی جاری رکھی تو پاکستان کو اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے مزید کارروائیاں کرنی پڑیں گی۔

3. سفارتی حل: دونوں ممالک بیچ بیچ میں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔


نتیجہ


یہ کوئی پرانی دشمنی نہیں، بلکہ ایک نیا بحران ہے جو دونوں ممالک کی پالیسیوں اور باہمی عدم اعتماد کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس کا حل اسی طرح ممکن ہے جس طرح یہ پیدا ہوا ہے: عملی اقدامات، باہمی اعتماد اور کھلے مذاکرات سے۔ جب تک افغانستان TTP جیسے گروہوں کو پناہ دیتا رہے گا، پاکستان کو اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کارروائیاں کرنی پڑیں گی۔


کاپی رائٹ 2026 پاکستان ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

US Sea Drones Used Against Iran: How They Work and Why It Matters

World's Poorest Countries 2026: The Bottom Five by GDP Per Capita

How Volker Türk Won a Second Term as UN Human Rights Chief