آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں پر احتجاج، انٹرنیٹ بندش اور عوامی مشکلات: آخر معاملہ کیا ہے؟
دی پاکستان ٹائمز لائیو | اسلام آباد ٹائمز
آزاد جموں و کشمیر میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر جاری سیاسی کشیدگی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے، احتجاجی مظاہروں، سکیورٹی کی سخت پابندیوں اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی نے نہ صرف سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خطے میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل حالات مزید حساس ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت اور احتجاج کرنے والے گروپ اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مخصوص نشستوں کے معاملے پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مخصوص نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد احتجاجی تحریک نے مزید زور پکڑا اور مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔
سرکاری حکام کے مطابق 4 جون سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد پرتشدد واقعات پیش آئے۔ مختلف جھڑپوں میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ عوامی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
انتظامیہ کے مطابق مظفرآباد کی جانب اعلان کردہ مارچ سے پہلے تقریباً چار ہزار پولیس اور نیم فوجی اہلکار مختلف اضلاع میں تعینات کیے گئے۔ راولاکوٹ، پونچھ اور دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی جبکہ بعض مقامات پر راستوں کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا اور عوام کی حفاظت یقینی بنانا تھا۔
تاہم ان سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی سامنے آیا جس نے ہزاروں شہریوں کو متاثر کیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق لوئر ٹوپا، پھگواڑی، دیول، مولیہ بکوٹ اور مظفرآباد سے متصل ایبٹ آباد کے متعدد سرحدی علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس متاثر یا بند رہی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی روز سے موبائل انٹرنیٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
انٹرنیٹ بند ہونے کا سب سے بڑا اثر طلبہ پر پڑا ہے۔ متعدد والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے آن لائن کلاسز، تعلیمی پورٹلز اور امتحانات کی تیاری سے محروم ہو گئے ہیں۔ جدید دور میں جہاں تعلیم کا بڑا حصہ ڈیجیٹل ذرائع سے وابستہ ہو چکا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی بندش نے طلبہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ مالی معاملات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی شہریوں کے مطابق ایزی پیسہ، جاز کیش، موبائل بینکنگ ایپس اور دیگر آن لائن مالیاتی خدمات استعمال نہ ہونے کی وجہ سے روزمرہ لین دین میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ کاروباری افراد، دکاندار اور ملازمین بھی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ آج کل بیشتر ادائیگیاں اور مالی معاملات انٹرنیٹ کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم جہاں ممکن ہو وہاں ایسے متبادل انتظامات بھی کیے جانے چاہییں جن سے عام شہریوں کی بنیادی ضروریات، تعلیم اور مالی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل نہ ہوں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن عوامی سہولتوں کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
دوسری جانب احتجاجی گروپ اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر شفاف آئینی عمل ہی موجودہ بحران کا مستقل حل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عدالت کے فیصلے، قانون اور آئین کے مطابق تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں اور انتخابات بھی مقررہ وقت پر کرانے کی کوشش جاری ہے۔
27 جولائی کے انتخابات قریب آتے ہی آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال مزید اہم ہوتی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور احتجاجی گروپوں کے فیصلے یہ طے کریں گے کہ موجودہ کشیدگی کم ہوتی ہے یا مزید بڑھتی ہے۔ فی الحال عام شہری یہی امید کر رہے ہیں کہ حالات جلد معمول پر آئیں، انٹرنیٹ سمیت بنیادی سہولیات بحال ہوں اور سیاسی اختلافات کا حل آئینی اور جمہوری طریقے سے نکالا جائے۔

Comments
Post a Comment
We welcome your thoughts and feedback. Please keep your comments respectful, relevant, and constructive. Spam, abusive, or promotional comments will not be approved.