اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ نئی چھ لین سڑک کی تعمیر شروع
اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ طویل عرصے سے خراب سروس روڈ کی جگہ نئی چھ لین سڑک کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے۔ فیض آباد سے گلبرگ گرین تک تقریباً 8.5 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ اسلام آباد کے اہم ترین ٹریفک راستوں میں بہتری لانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر ان شہریوں کے لیے اہم ہے جو روزانہ فیض آباد، کھنہ، لہتراڑ روڈ اور گلبرگ گرین کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ پرانی سروس روڈ کی خراب حالت کے باعث شہریوں کو طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ بارش کے دوران صورتحال مزید خراب ہوجاتی تھی۔
خراب سروس روڈ کی جگہ نئی سڑک
نئے منصوبے کے تحت موجودہ مشرقی سروس روڈ کو بہتر کرکے اسے دو رویہ چھ لین سڑک میں تبدیل کیا جائے گا۔ منصوبے میں فیض آباد کے مقام پر فلائی اوور جبکہ لہتراڑ روڈ اور کھنہ پل کے قریب انڈر پاس بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقامی ٹریفک کو ایک بہتر اور کشادہ راستہ فراہم کرنا ہے تاکہ قریبی علاقوں میں جانے والی گاڑیوں کو ہر وقت مرکزی ایکسپریس وے استعمال نہ کرنا پڑے۔
اہم شخصیات کی آمدورفت کے دوران شہریوں کو مشکلات
اسلام آباد ایکسپریس وے دارالحکومت کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ ایئرپورٹ سے اسلام آباد کی جانب آنے والی ٹریفک اسی اہم راستے سے گزرتی ہے اور اہم سرکاری شخصیات، غیر ملکی وفود اور دیگر اعلیٰ سطح کے مہمانوں کی آمدورفت کے دوران بھی اس روٹ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
ایسے مواقع پر سکیورٹی انتظامات کے تحت بعض اوقات مرکزی راستوں پر ٹریفک محدود یا روٹ لگایا جاتا ہے۔ اس دوران خراب سروس روڈ شہریوں کے لیے مناسب متبادل فراہم نہیں کر پاتی تھی، جس کے باعث ٹریفک کا دباؤ اور عوام کی مشکلات دونوں بڑھ جاتی تھیں۔
14 اگست کے موقع پر بھی دارالحکومت میں سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کے باعث مختلف اہم شاہراہوں پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں بہتر سروس روڈ کی موجودگی مقامی ٹریفک کے لیے خاصی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تعمیراتی کام تیزی سے جاری
نئے منصوبے پر ابتدائی سروے کے بعد تعمیراتی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔ راستے کی صفائی، زمین کی تیاری اور مختلف یوٹیلیٹی لائنز کی منتقلی کا کام بھی جاری ہے۔
ایکسپریس وے کے ساتھ مختلف مقامات پر سڑک کی حدود اور تعمیراتی راستے کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ متعدد پلازوں اور کاروباری عمارتوں کے قریب بھی نشانات نظر آ رہے ہیں، جس سے مقامی لوگوں کو اندازہ ہورہا ہے کہ نئی سڑک کی الائنمنٹ کس سمت میں ہوگی۔
تعمیر کے دوران شہریوں کو کچھ عرصے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس راستے پر سفر کرنے والوں کو زیادہ بہتر سہولت ملنے کی توقع ہے۔
تقریباً 200 قبروں کی منتقلی
منصوبے کی تعمیر کے لیے راستے کی الائنمنٹ میں آنے والی تقریباً 200 قبروں کو بھی دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تعمیراتی راستے کو مکمل طور پر صاف کرنا اور منصوبے کے کام کو آگے بڑھانا تھا۔
اس طرح کے منصوبوں میں زمین کی تیاری اور یوٹیلیٹی منتقلی اکثر تعمیراتی کام کا اہم حصہ ہوتی ہے، اس لیے ابتدائی مرحلے میں یہ سرگرمیاں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ٹریفک کے لیے کیا فائدہ ہوگا؟
نئی چھ لین سڑک مکمل ہونے کے بعد فیض آباد، کھنہ اور گلبرگ گرین کے درمیان مقامی ٹریفک کو ایک متبادل راستہ مل جائے گا۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ قریبی علاقوں میں جانے والی گاڑیاں مرکزی ایکسپریس وے کے بجائے سروس روڈ استعمال کرسکیں گی۔ اس سے مرکزی ایکسپریس وے پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
فلائی اوور اور انڈر پاس کی تعمیر بھی ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں مختلف سمتوں سے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے کو متاثر کرتی ہیں۔
منصوبہ کب مکمل ہوگا؟
منصوبے کی منظور شدہ مدت ایک سال رکھی گئی ہے، تاہم متعلقہ حکام کے مطابق اگر تعمیراتی کام بغیر بڑی رکاوٹ کے تیزی سے جاری رہا تو اسے تقریباً 150 ورکنگ دنوں میں مکمل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
منصوبے کے لیے تقریباً 6 ارب روپے کا ٹینڈر تخمینہ لگایا گیا تھا جبکہ ٹھیکہ اس تخمینے سے 13 فیصد کم بولی دینے والی کمپنی کو دیا گیا۔
سڑک کے ساتھ کمرشل علاقہ بھی زیر غور
نئی سڑک کے اطراف مستقبل میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ منصوبہ بندی کے تحت سڑک کے ساتھ کچھ زمین کو تجارتی استعمال کے لیے مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اگر یہ تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس علاقے میں نئی مارکیٹیں، کاروباری مراکز اور دیگر تجارتی سرگرمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ پارکنگ، داخلی راستوں اور ٹریفک کے مناسب انتظام کی ضرورت بھی ہوگی تاکہ مستقبل میں نئی سڑک دوبارہ ٹریفک کے دباؤ کا شکار نہ ہو۔
تجزیہ
اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ نئی چھ لین سڑک کا منصوبہ شہریوں کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ صرف ایک نئی سڑک نہیں بلکہ مقامی ٹریفک کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
طویل عرصے سے خراب سروس روڈ کے باعث شہریوں کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے، جبکہ سکیورٹی روٹس اور اہم شخصیات کی آمدورفت کے دوران یہ مسئلہ مزید نمایاں ہوجاتا تھا۔
اگر منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہوگیا اور فلائی اوور، انڈر پاس اور داخلی راستوں کو مناسب انداز میں تعمیر کیا گیا تو فیض آباد سے گلبرگ گرین تک سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔
اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب نئی سڑک مکمل ہونے کے بعد مقامی ٹریفک واقعی مرکزی ایکسپریس وے سے الگ ہو اور شہریوں کو روزانہ سفر میں وقت اور مشکلات دونوں سے نجات ملے۔
مزید پڑھیں
حافظ نعیم الرحمن کا پیٹرول کی قیمتیں کم کرانے کا مطالبہ
ماخذ: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دستیاب سرکاری و نیوز رپورٹس۔

Comments
Post a Comment
We welcome your thoughts and feedback. Please keep your comments respectful, relevant, and constructive. Spam, abusive, or promotional comments will not be approved.