حکومت سے مذاکرات ناکام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ دوبارہ شروع
پاکستان ٹائمز | اسلام آباد، 26 جولائی 2026
حکومت سے مذاکرات ناکام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ دوبارہ شروع، مسلسل انٹرنیٹ بندش سے علاقہ مفلوج
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آج سے دوبارہ لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس تقریباً دو ماہ سے معطل ہے اور 27 جولائی کو ہونے والے مرحلہ وار انتخابات سر پر ہیں۔
لانگ مارچ کا شیڈول
تنظیم کی کور کمیٹی کے مطابق پہلے مرحلے میں میرپور سے حامی لانگ مارچ کرتے ہوئے راولاکوٹ کے علاقے دریک پہنچیں گے، جہاں پہلے ہی سے دھرنا جاری ہے۔ اس کے بعد 27 جولائی کو دریک سے مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی جائے گی، تاہم اس مرحلے میں خواتین اور بچوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ 27 جولائی کو ہی میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پہلے مرحلے کی پولنگ بھی ہو رہی ہے۔
تنظیم کے نمائندے نے واضح کیا ہے کہ ان کی تحریک کا انتخابات ملتوی کروانے سے کوئی تعلق نہیں، اور رواں سال مئی میں حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں انتخابات میں حصہ لینے پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر بعد کے حالات کی وجہ سے تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہ بن سکی۔
مذاکرات کیوں ناکام ہوئے
مذاکراتی عمل میں شریک حکومتی ذرائع کے مطابق تنظیم کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اسے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، جبکہ حکومت نے چھ ماہ تک تنظیم کے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس فیصلے پر نظرثانی کی پیشکش کی۔ دوسرا بڑا مطالبہ کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات کی فوری واپسی کا تھا، جسے حکومت نے یہ کہتے ہوئے مسترد کیا کہ ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔ حکومتی نمائندوں نے صرف اتنی یقین دہانی کرائی کہ ملزمان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں نرمی برتی جا سکتی ہے، جبکہ نظر بند کارکنوں کی مشروط رہائی کی شرط یہ رکھی گئی کہ تنظیم پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔
تقریباً دو ماہ سے انٹرنیٹ بندش
اس تمام صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو آزاد کشمیر میں جاری طویل انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی معطلی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق یہ بندش 5 جون کو تنظیم کے راولاکوٹ میں دھرنے اور لانگ مارچ کے اعلان کے بعد نافذ کی گئی تھی اور اب تک تقریباً 45 سے 48 دن تک جاری رہ چکی ہے۔ رواں ہفتے میرپور، کوٹلی، بھمبر، افضل پور، چکسوانی، منگلا اور اسلام گڑھ سمیت میرپور ڈویژن کے چند علاقوں میں جزوی بحالی کی گئی ہے، تاہم مظفرآباد، پونچھ، نیلم اور دیگر ڈویژنز میں سروس تاحال معطل ہے، اور بقیہ علاقوں میں بحالی انتخابات سے قبل مرحلہ وار متوقع ہے۔
طویل بندش نے تعلیم، کاروبار، آن لائن بینکنگ اور سرکاری خدمات کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر طلبہ، فری لانسرز اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ قرار دیا ہے۔
متصل کے پی کے اور مری کے علاقے بھی متاثر
انٹرنیٹ کی بندش صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ اس سے ملحقہ خیبر پختونخوا اور مری کے علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق مری اور کوٹلی ستیاں سمیت مری-کشمیر سرحد پر واقع سگنل ٹاورز کی وجہ سے یہ علاقے بھی کئی روز سے انٹرنیٹ بندش کا شکار ہیں۔ اسی طرح مظفرآباد سے متصل کے پی کے کی جانب مولیاں بکوٹ، دیول اور لوئر ٹوپا سمیت مظفرآباد کے سامنے واقع دیگر علاقوں میں بھی نیٹ سروس کئی ہفتوں سے بند بتائی جا رہی ہے، جس سے مقامی رہائشیوں اور سیاحوں دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سکیورٹی صورتحال اور انتخابی مہم
میرپور پولیس کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر متحرک ہے اور ایف سی کے اہلکار بھی مختلف علاقوں میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم آج رات ختم ہو جائے گی، جبکہ طویل احتجاج اور مواصلاتی بندش کے باعث امیدواروں کو ووٹرز تک رسائی میں شدید دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے
مذاکرات کی ناکامی اور لانگ مارچ کے دوبارہ آغاز سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انتخابات صرف ایک روز کے فاصلے پر ہیں۔ پاکستان ٹائمز اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے گا اور تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کرتا رہے گا۔
Read More:>>>🔴Cockroach Janta Party Ends Protests After Government Accepts All Demands
Source: بی بی سی اردو
© 2026 The Pakistan Times Live. All rights reserved.

Comments
Post a Comment
We welcome your thoughts and feedback. Please keep your comments respectful, relevant, and constructive. Spam, abusive, or promotional comments will not be approved.