US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region

Image
 THE PAKISTAN TIMES LIVE US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region By: The Pakistan Times Live After a long period of ongoing tensions and war-like situation in the Middle East, diplomatic contacts between Tehran and Washington are rapidly increasing. Recent statements by US President Donald Trump and the indications given by Secretary of State Marco Rubio during his visit to India confirm that both countries are close to an agreement that could help clear the clouds of war in the region. Possible Framework of the Agreement Although no final agreement has been officially announced by Tehran or Washington, according to international media reports, the proposed framework includes several key points: 1. Extension of ceasefire: A temporary ceasefire of 60 days aimed at paving the way for lasting peace. 2. Strait of Hormuz: Assurance of uninterrupted opening of this most important passage for global trade and oil supply. 3. Nuclear program: Initiat...

اشرافیہ کی عیاشیاں، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ بدترین ناانصافی!


     ناانصافی

دی پاکستان ٹائم: پانی کے لیے ٹینکر، گیس کے لیے سلنڈر، بجلی کے لیے سولر، تعلیم کے لیے مہنگے پرائیویٹ اسکول، علاج کے لیے پرائیویٹ ہسپتال اور تحفظ کے لیے پرائیویٹ گارڈز؛ جب ایک عام پاکستانی اپنی زندگی کی ہر بنیادی ضرورت اپنی جیب سے خریدنے پر مجبور ہے، تو پھر تمام سیاسی طبقے اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے عوام سے بھاری ٹیکس لینا کس حد تک جائز ہے؟ یہ اس ملک کے معصوم عوام کے ساتھ بدترین ناانصافی ہے کہ غریب کا خون نچوڑ کر پوری سیاسی اشرافیہ لندن، دبئی اور پیرس میں اپنے اربوں روپے کے اثاثے اور جائیدادیں بناتی ہے، جبکہ یہاں کا عام ووٹر بنیادی حقوق کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پانچ سال بعد ہاتھ جوڑ کر ووٹ مانگنے والے تمام سیاست دان جب اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں، تو عوام کے اصل مسائل کو یکسر بھول جاتے ہیں۔


جب بھی کوئی باشعور شہری ان سے انتخابی وعدوں اور کارکردگی پر سوال پوچھنے سڑکوں پر نکلتا ہے، تو اسے سننے کے بجائے انتظامی طاقت کے زور پر سڑکوں پر گھسیٹا اور خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے دعوے صرف غریب کو دبانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور کے لیے نظامِ انصاف کا رویہ ہمیشہ نرم رہتا ہے۔ اقتدار میں آنے والے تمام سیاسی رہنما بیماری کے علاج سے لے کر بچوں کی شادیاں اور تفریحات تک بیرونِ ملک مناتے ہیں، اور پیچھے رہ جانے والی 24 کروڑ عوام کو قرضوں کی دلدل میں سسکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس فرسودہ نظام کو بدلیں اور عوام کو ان کا اصل حق دیں، ورنہ یہ عوامی مایوسی ملکی ترقی کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوگی۔


دی پاکستان ٹائم پبلک فورم

Comments

Popular posts from this blog

Strait of Hormuz: The 'Strategic Weapon' That Defeated the American Nuclear War Frenzy

Special Report: The Pakistan Times Live

Israeli Aggression: A Chronicle of Human Suffering and Global Silence