US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region
دی پاکستان ٹائم: پانی کے لیے ٹینکر، گیس کے لیے سلنڈر، بجلی کے لیے سولر، تعلیم کے لیے مہنگے پرائیویٹ اسکول، علاج کے لیے پرائیویٹ ہسپتال اور تحفظ کے لیے پرائیویٹ گارڈز؛ جب ایک عام پاکستانی اپنی زندگی کی ہر بنیادی ضرورت اپنی جیب سے خریدنے پر مجبور ہے، تو پھر تمام سیاسی طبقے اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے عوام سے بھاری ٹیکس لینا کس حد تک جائز ہے؟ یہ اس ملک کے معصوم عوام کے ساتھ بدترین ناانصافی ہے کہ غریب کا خون نچوڑ کر پوری سیاسی اشرافیہ لندن، دبئی اور پیرس میں اپنے اربوں روپے کے اثاثے اور جائیدادیں بناتی ہے، جبکہ یہاں کا عام ووٹر بنیادی حقوق کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پانچ سال بعد ہاتھ جوڑ کر ووٹ مانگنے والے تمام سیاست دان جب اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں، تو عوام کے اصل مسائل کو یکسر بھول جاتے ہیں۔
جب بھی کوئی باشعور شہری ان سے انتخابی وعدوں اور کارکردگی پر سوال پوچھنے سڑکوں پر نکلتا ہے، تو اسے سننے کے بجائے انتظامی طاقت کے زور پر سڑکوں پر گھسیٹا اور خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے دعوے صرف غریب کو دبانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور کے لیے نظامِ انصاف کا رویہ ہمیشہ نرم رہتا ہے۔ اقتدار میں آنے والے تمام سیاسی رہنما بیماری کے علاج سے لے کر بچوں کی شادیاں اور تفریحات تک بیرونِ ملک مناتے ہیں، اور پیچھے رہ جانے والی 24 کروڑ عوام کو قرضوں کی دلدل میں سسکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس فرسودہ نظام کو بدلیں اور عوام کو ان کا اصل حق دیں، ورنہ یہ عوامی مایوسی ملکی ترقی کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوگی۔
دی پاکستان ٹائم پبلک فورم
Comments
Post a Comment