US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region
جب اماں ہاجرہ دو پہاڑوں کے درمیان بھاگی، اور آج کعبہ خالی تھا
یہ کہانی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ کے حکم پر وہ اپنی بیوی اماں ہاجرہ اور دودھ پیتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاه صحرا میں چھوڑ آئے۔ جب پانی ختم ہوا، تو اماں ہاجرہ صفا اور مروہ کے درمیان بھاگی — ایک ماں کی بےقرار دل کی آواز۔ تب زمزم کا پانی پھوٹا، اور وہیں مکہ بسا۔ یہ حج کی اصل روح ہے: ماں کی دعا، باپ کا صبر، اور بیٹے کا قربانی پر تیار ہونا۔
اس کے بعد صدیوں تک لاکھوں حاجی اسی ریت پر چلے، اسی صحرا میں پانی پیا، اسی کعبہ کا طواف کیا۔
پھر 2020 آیا۔ کورونا کی وبا نے سب بدل دیا۔ حاجیوں کو اجازت نامے نہیں ملے۔ خانہ کعبہ میں صرف چند افراد تھے۔ امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے جب خالی صحن دیکھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا مانگی: "یا اللہ، یہ منظر میری آنکھوں کو دوبارہ کبھی نہ دکھا۔"
آج، 2026 میں، وہی کعبہ پھر سے آباد ہے۔ 15 لاکھ حاجی گرمی، جنگ اور بحران کے باوجود یہاں کھڑے ہیں — ایک دوسرے کو پانی پلا رہے ہیں، ایک دوسرے کے لیے دعا مانگ رہے ہیں۔
یہ وہی کعبہ ہے جہاں اماں ہاجرہ بھاگی تھی، جہاں ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو قربان کرنے کا ہاتھ اٹھایا تھا، اور جہاں امام السدیس نے آنسو بہائے تھے۔
یہ حج صرف عبادت نہیں — یہ امت مسلمہ کی آواز ہے، جو کبھی خاموش نہیں ہوتی۔
خصوصی رپورٹ: دی پاکستان ٹائمز لائیو
Comments
Post a Comment