عمران خان کی قسمت کا فیصلہ 18 جون کو: اڈیالہ جیل سے ہائی کورٹ تک آخری معرکہ!
اسلام آباد ہائی کورٹ
پولیٹیکل ڈیسک: £190 ملین کرپشن کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 جون کو دلائل پیش کرنے کا فائنل الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔
القادر ٹرسٹ
اگر ماضی کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر بحریہ ٹاؤن کے فنڈز کو برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنے کے بدلے القادر ٹرسٹ کے لیے قیمتی زمین اور اربوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر احتساب عدالت نے انہیں اس سال کے آغاز میں مجرم قرار دیتے ہوئے سخت قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عمران خان کی مرکزی وکیل
اس سزا کے خلاف پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کیں، لیکن گزشتہ کئی سماعتوں سے عمران خان کے مرکزی وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی آنکھوں کی شدید بیماری اور دیگر طبی وجوہات کی بنا پر یہ کیس مسلسل التوا کا شکار ہوتا رہا اور عدالت حتمی دلائل سننے سے قاصر رہی۔
اگلی سماعت
اب عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے نئے تحریری حکم نامے میں پی ٹی آئی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اگلی سماعت پر ان کے پینل کے مرکزی وکیل دستیاب نہ ہوئے تو ہر صورت کسی متبادل وکیل کو کھڑا کر کے بحث شروع کی جائے۔
ہائی کورٹ وکلا
اس سخت آرڈر میں جج صاحبان نے واضح کر دیا ہے کہ اب مزید کوئی التوا یا میڈیکل گراؤنڈ قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر 18 جون کو دلائل نہ دیے گئے تو ہائی کورٹ وکلا کے بغیر ہی موجودہ عدالتی ریکارڈ کو سامنے رکھ کر قانون کے مطابق اس کیس کا حتمی فیصلہ سنا دے گی۔
مستقبل کی حکمتِ عملی کے لیے عدالت نے جیل انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ عمران خان سے فوری طور پر وکالت نامے پر دستخط کروا کر وکیل کو دیے جائیں تاکہ اگلی سماعت پر کوئی قانونی بہانہ باقی نہ رہے، جس کے بعد اب 18 جون کو پی ٹی آئی کے بانی کی رہائی یا مستقل قید کا حتمی فیصلہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

Comments
Post a Comment
We welcome your thoughts and feedback. Please keep your comments respectful, relevant, and constructive. Spam, abusive, or promotional comments will not be approved.