US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region

Image
 THE PAKISTAN TIMES LIVE US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region By: The Pakistan Times Live After a long period of ongoing tensions and war-like situation in the Middle East, diplomatic contacts between Tehran and Washington are rapidly increasing. Recent statements by US President Donald Trump and the indications given by Secretary of State Marco Rubio during his visit to India confirm that both countries are close to an agreement that could help clear the clouds of war in the region. Possible Framework of the Agreement Although no final agreement has been officially announced by Tehran or Washington, according to international media reports, the proposed framework includes several key points: 1. Extension of ceasefire: A temporary ceasefire of 60 days aimed at paving the way for lasting peace. 2. Strait of Hormuz: Assurance of uninterrupted opening of this most important passage for global trade and oil supply. 3. Nuclear program: Initiat...

عمران خان کی قسمت کا فیصلہ 18 جون کو: اڈیالہ جیل سے ہائی کورٹ تک آخری معرکہ!

 


دی پاکستان ٹائم پولیٹیکل ڈیسک: £190 ملین کرپشن کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 جون کو دلائل پیش کرنے کا فائنل الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔


اگر ماضی کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر بحریہ ٹاؤن کے فنڈز کو برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنے کے بدلے القادر ٹرسٹ کے لیے قیمتی زمین اور اربوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر احتساب عدالت نے انہیں اس سال کے آغاز میں مجرم قرار دیتے ہوئے سخت قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔


اس سزا کے خلاف پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کیں، لیکن گزشتہ کئی سماعتوں سے عمران خان کے مرکزی وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی آنکھوں کی شدید بیماری اور دیگر طبی وجوہات کی بنا پر یہ کیس مسلسل التوا کا شکار ہوتا رہا اور عدالت حتمی دلائل سننے سے قاصر رہی۔


اب عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے نئے تحریری حکم نامے میں پی ٹی آئی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اگلی سماعت پر ان کے پینل کے مرکزی وکیل دستیاب نہ ہوئے تو ہر صورت کسی متبادل وکیل کو کھڑا کر کے بحث شروع کی جائے۔


اس سخت آرڈر میں جج صاحبان نے واضح کر دیا ہے کہ اب مزید کوئی التوا یا میڈیکل گراؤنڈ قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر 18 جون کو دلائل نہ دیے گئے تو ہائی کورٹ وکلا کے بغیر ہی موجودہ عدالتی ریکارڈ کو سامنے رکھ کر قانون کے مطابق اس کیس کا حتمی فیصلہ سنا دے گی۔


مستقبل کی حکمتِ عملی کے لیے عدالت نے جیل انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ عمران خان سے فوری طور پر وکالت نامے پر دستخط کروا کر وکیل کو دیے جائیں تاکہ اگلی سماعت پر کوئی قانونی بہانہ باقی نہ رہے، جس کے بعد اب 18 جون کو پی ٹی آئی کے بانی کی رہائی یا مستقل قید کا حتمی فیصلہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Strait of Hormuz: The 'Strategic Weapon' That Defeated the American Nuclear War Frenzy

Special Report: The Pakistan Times Live

Israeli Aggression: A Chronicle of Human Suffering and Global Silence