US-Iran Possible Agreement: A Diplomatic Effort to Reduce Tensions in the Region
دی پاکستان ٹائم: واشنگٹن اور تائیوان کے درمیان جاری تزویراتی تعلقات نے اس وقت ایک نیا موڑ لے لیا جب امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکرٹری ہنگ کاو نے سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ تائیوان کو دیے جانے والے 14 بلین ڈالر کے جدید ترین ہتھیاروں کی منتقلی فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ امریکی عسکری حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کے پیشِ نظر اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو محفوظ رکھنے اور "ایپک فیوری" (Epic Fury) نامی جنگی حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی امور کے ماہرین اس معطلی کو محض ایک عسکری ضرورت نہیں بلکہ واشنگٹن اور ایران کے درمیان ماضی میں ہونے والے معاہدوں اور حالیہ سفارتی سودے بازی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
تاریخی پس منظر پر نظر دوڑائی جائے تو امریکہ اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی جنوری کے مہینے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم ترین معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت امریکہ نے ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے اثاثے بحال کرنے اور قیدیوں کے تبادلے پر دستخط کیے تھے، جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی تھی۔ اگرچہ رواں سال 8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق تو ہو گیا، لیکن کسی مستقل امن معاہدے تک نہ پہنچنے کی وجہ سے امریکہ اب بھی ایران کے خلاف عسکری دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اب تائیوان کے کھربوں روپے کے اسلحے کو روک کر ایران کو ایک بالواسطہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کے حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد اس 14 بلین ڈالر کے پیکیج کو اپنی سودے بازی کے لیے بطور "مذاکراتی چپ" استعمال کرنے کا اشارہ دے کر تائیوان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکی کانگریس سے رواں سال جنوری میں منظور ہونے والے اس تاریخی پیکیج پر صدر ٹرمپ کے دستخط ہونا ابھی باقی ہیں، جس نے تائیوان کی حکومت کو شدید شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔ تائیوان کے وزیر اعظم چو جنگ تائی نے امریکی بے رخی کے بعد متبادل ذرائع سے ہتھیار خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ دوغلی پالیسی تائیوان کے دفاع کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
دی پاکستان ٹائم نیوز ڈیسک
Comments
Post a Comment